جب وی میٹ: طالبان قسط

جب وی میٹ میری پسندیدہ فلموں میں سے ہے۔  ہیروئن لڑکے سے شادی کرنے کے لیے گھر سے بھاگنا چاہتی ہے۔  اس کام میں اُس کی مدد ہیرو کرتا ھے۔  مگر جب وہ لڑکے کے پاس پہنچتی ہے تو اس پر انکشاف ہوتا ہے کہ وہ اس کے خوابوں کا شہزادہ نہیں ہے اور نہ ہی اس سے محبت کرتا ہے۔ تب ہیروئن سمجھ پاتی ہے کہ وہ تو اصل میں ہیرو سے ہی پیار کرتی ہے جس نے اسے اس لڑکے سے ملا کر اس پر بہت بڑا احسان کیا ورنہ وہ کبھی نہ سمجھ پاتی کہ وہ کیا چاہتی تھی۔

اس سے ملتا جلتا ایک احسان طالبان نے پاکستانی لوگوں پر بھی کیا جب انہوں نے ایک ثانوی (یا اصل) مگر فعال الیکشن کمیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنی منظور نظر پارٹیوں کی نشاندہی کر دی اور یوں ووٹروں کہ کنایتا یہ مخلصانہ مشورہ دیا کہ وہ کن پارٹیوں کو ووٹ دیں۔۔   چنانچہ یہ بات اتنی بھی بعید از قیاس معلوم نہیں ہوتی کہ انتخابات میں انہی پارٹیوں کی جیت کو طالبان اپنی ایک اور کامیابی گردانتے ہوں گے۔  اگرچہ یہ ایک دلچسپ امر ہے کہ طالبان کی پی پی پی اور اے این پے کے لیے نیک خواہشات کے اظہار سے انتخابات کے نتائج پرکیا اثر پڑا،  برقی ذرائع ابلاغ کے بڑے بڑے اینکر پرسنز اس بارے میں محض اتنا کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے کہ اے این پی اور پی پی پی اس الیکشن میں تقریبا میدان سے غائب ہیں۔ 

اب جب کہ طالبان قوم کو ان کے ہیروز (امران خان اورنواز شریف) سے ملا نے کا احسان کر چکے ہیں اگر یہ دونوں صاحبان تعلیمی، معاشی، انتظامی اور خود طالبان سے متعلق اپنی پالیسیوں پر پانچ سال یونہی قائم دائم رہے تو امید ہے کہ اگلے انتخابات تک ذرائع ابلاغ کے ڈھنڈ وروں سے قطع نظر لوگ یہ ضرور سمجھ جائیں گے کہ وہ اصل میں خود کیا چاہتے ہیں۔  اگر جب وی میٹ کے فارمو لے کو دیکھا جائے تو فیصلہ طالبان کے حق میں بھی جا سکتا ہے۔  خاص طور پر جیسے کہ میں نے اوپر لکھا قوم کے ہیرو، جنابان امران خان اور نواز شریف اپنی اپنی ڈگر پر اسی طرح ڈٹے رہے۔  لگتا ہے طالبان کو بھی اپنی جیت کا یقین ہو چلا ہے شاید اسی لیے ان کی ‘الیکشن مہم’ ہر وقت جاری و ساری رہتی ہے۔

یعنی اگلا الیکشن ہو نہ ہو طالبان پاکستان کے اگلے حکمران بنتے نظر آتے ہیں۔  اگرآپ کو یہ کوئی دور کی کوڑی لگتی ہے تو حکیم اللہ محسود کی حالیہ موت پر تمام سیاسی دھڑوں اور ذرائع ابلاغ میں منائے جانے والے سوگ کو دیکھ لیجیئے۔  اگر ؐمحسود ملک کی مقبول ترین پارٹیوں میں سے ایک کے امیر نہ ہوتے تو بھلا بعد از مرگ ان کا اس شان سے ذکر خیر ہوتا ؟

مگر جو نکتہ اس امکان کو اور زیادہ راسخ کر دیتا ہے وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی اپنی اندر کی پھوٹ ہے جس کو اجاگر کرنے پر  سلیم شہزاد کو اپنی جان سی ہاتھ دھونا  پڑے اور جو اب حکیم اللہ محسود کے ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد ذرائع ابلاغ میں بٹی ہوئی رائے کی  صورت میں بہت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔  یہ واضح ہے کہ محسود کی موت فوج کی انٹیلیجنس کے بغیر ممکن نہ تھی۔ یہ بھی واضح ہے کہ فوج کے اندر اور باہر ماضی میں اس کا حصہ رہنے والوں پر مشتمل ایک ایسا دھڑا بھی موجود ہے جو پرانی پالیسی کے مطابق طالبان کو امریکی انخلا کی بعد افغانستان میں پاکستانی رسوخ کے لیۓ لازم و ملزوم سمجھتا ہے۔  فوج کے یہ دونوں دھڑے اپنی آپسی کشمکش اور بلواسطہ جنگ کے لیۓ ذرائع ابلاغ کو استعمال کرتے ہیں۔  چنانچہ آج جب کہ حکیم اللہ محسود جو پاکستان کے لوگوں اور فوج کے لیۓ ھلاکو خان ثانی ثابت ہوۓ ہیں، کی ڈرون سی موت ذرائع ابلاغ کے کہنہ مشق پہلوانوں کے لیۓ معمہ بن چکی ہے۔

یہی نہیں فوج میں ان دھڑوں کی موجودگی کا مطلب یہ بھی ہے کہ نہ صرف ذرائع ابلاغ بلکہ میدان جنگ میں بھی فوج اپنے ہی ایک باغی دھڑے سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔  اور جیسا کہ ہمیشہ ہوتا آیا ہے چاہے وہ کسی بھی فرقے کی پروردہ ہو، اسٹیبلشمنٹ سے نکلنے والے ہر بیانیے کو پاکستان کے بیانیے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔  اب کی بار فرق صرف اتنا ہے کہ یہ بیانیہ بٹ چکا ہے۔  جس سے یک لحظہ کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ پوری قوم دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے، حالانکہ حقیقت شاید اس سے کچھ قدر مختلف ہی ہے۔ 

جب وی میٹ کی ہیروؤن کی طرح پاکستانی آخر کار بہت انتظار بعد اپنے اصل ہیروز سے مل چکے ہیں لیکن ‘پکچر ابھی باقی ہے دوست’ کے مصداق ایک آخری مرحلہ یعنی پاک فوج سے ملنا رہ گیا ہے۔  پھر شاید واقعی کوئی دو راۓ نہ رہے کہ وہ اصل میں کیا چاہتے ہیں۔  

Advertisements